جمعرات 22 جنوری 2026 - 20:36
مناجات شعبانیہ، معرفت کا ایک بحرِ بیکراں

حوزہ/ اولیاء اللہ اور عرفاء کی پسندیدہ روحانی مناجات "مناجات شعبانیہ" اپنے دلنشیں کلمات اور عرفانی حقائق کی وجہ سے اللہ سے معنوی تعلق کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہم آپ کے سامنے رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے ان حکیمانہ اور پراثر بیانات کو پیش کر رہے ہیں جو انہوں نے مناجات شعبانیہ کے بارے میں فرمائے ہیں۔

اللہ کے ساتھ عاشقانہ مناجات

میں نے ایک بار امام خمینی سے پوچھا کہ تمام ماثور دعاؤں میں سے آپ کو کون سی دعا سب سے زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے فرمایا: دعائے کمیل اور مناجات شعبانیہ۔ دلچسپ بات یہ کہ یہ دونوں دعائیں ماہ شعبان سے تعلق رکھتی ہیں - دعائے کمیل کا اصل وقت تو شب نصف شعبان ہے، اور مناجات شعبانیہ بھی ائمہ سے منقول ہے جو ماہ شعبان ہی سے مخصوص ہے۔ ان دونوں دعاؤں کا لہجہ ایک جیسا ہے - دونوں ہی عاشقانہ ہیں۔ (11/8/2004)

معرفت کا سمندر

مقدس مناجات شعبانیہ کے تمام جملے، ابتدا سے انتہا تک، معرفت الٰہی کے سمندر کی مانند ہیں۔ یہ مناجات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ سے کس طرح بات کریں اور اللہ سے کیا مانگیں: «اِلهی هَب لی قَلبًا یدنیهِ مِنک شَوقُهُ وَ لِسانًا یرفَعُ اِلَیک صِدقُهُ وَ نَظَرًا ‌یقَرِّبُهُ مِنک حَقُّه... »

(ترجمہ: اللہ مجھے ایسا دل عطا کر جس میں تیرا شوق اس حد تک ہو کہ وہ تجھ سے قریب ہو جائے۔ یہ شوق دل میں موجود ہونا چاہیے۔ مادیات کی آلودگی، گناہوں کی کثافت، لالچ اور حرص کی مختلف شکلیں اس شوق کو دل میں ماردیتی ہیں۔) (27/5/2015)

ایک مومن کی اللہ سے درخواست کا نمونہ

یہ مناجات شعبانیہ، اللہ کے برگزیدہ نیک بندوں کے اپنے معبود اور محبوب رب کی بارگاہ میں گڑگڑانے اور اپنے حال بیان کرنے کا ایک مکمل نمونہ ہے۔ یہ ایک طرف تو معرفت الٰہی کی تعلیم دیتی ہے تو دوسری طرف ایک مومن کے اپنے رب سے اپنے حال بیان کرنے اور درخواست کرنے کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہے۔ (22 دسمبر 1990)

ماہ شعبان کی عظمت کی دلیل

ماہ شعبان "قطع نظر اس کے کہ اس میں کئی عیدیں بھی آتی ہیں" بذات خود ایک نہایت اہم مہینہ ہے۔ «اَلَّذی‌ کانَ رَسولُ اللَهِ صَلَّی اللَهُ عَلَیهِ وَ آلِهِ یَداَبُ فی‌ صیامِهِ‌ وَ قیامِهِ فی‌ لَیالیهِ وَ اَیّامِهِ بُخوعاً لَکَ فی‌ اِکرامِهِ وَ اِعظامِهِ اِلی‌ مَحَلِّ‌ حِمامِه»؛ "وہ مہینہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اپنی وفات تک دنوں کو روزے سے اور راتوں کو قیام (نمازوں) سے بسر کرتے تھے، تیرے حضور جھکے ہوئے، اس مہینہ کی تعظیم و تکریم میں"۔ پھر ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ «فَاَعِنّا عَلَی الاِستِنانِ بِسُنَّتِهِ فیه» "پس ہمیں اس ماہ میں آپ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما"۔

خود یہ روح پرور مناجات جو اس ماہ میں ہمارے لیے روایت کی گئی ہے، اس ماہ کی عظمت کی واضح دلیل ہے۔ اس مقدس مناجات میں جو بلند پایہ فقرات پائے جاتے ہیں، وہ کہیں اور کم ہی ملتے ہیں۔ (10 مارچ 2022ء)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha